شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

زاہد کا پیش کردہ کلام

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن وہ صدائے اہل دل کیا جو عوام تک نہ پہنچے مرے طائر نفس کو نہیں باغباں سے رنجش ملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے جو نقاب رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں میں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے وہی اک خموش نغمہ ہے شکیلؔ جان ہستی جو زبان پر نہ آئے جو کلام تک نہ پہنچے

— شکیل بدیوانی