شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے

پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے بیٹھا ہوں زندگی کا سہارا لیے ہوئے دل ہے تجلیٔ رخ زیبا لیے ہوئے آغوش میں ہے چاند کو دریا لیے ہوئے پہنچے تو دل میں جوش تمنا لیے ہوئے لوٹے مگر لٹی ہوئی دنیا لیے ہوئے میں جی رہا ہوں غم کدۂ روزگار میں تیری محبتوں کا سہارا لیے ہوئے اٹھتا ہوں بزم حسن سے لغزش بپا شکیلؔ بہکی سی اک نظر کا سہارا لیے ہوئے

— شکیل بدیوانی