سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھی دل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سے کب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے حال دل پوچھنے والے تری دنیا میں کبھی دن تو ہوتا ہے مگر رات نہیں ہوتی ہے جب بھی ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیسے ہو شکیلؔ اس سے آگے تو کوئی بات نہیں ہوتی ہے
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم جیسے کہ میرے سامنے آئے ہوئے ہو تم میری نگاہ شوق پہ چھائے ہوئے ہو تم جلووں کو خود حجاب بنائے ہوئے ہو تم کیوں اک طرف نگاہ جمائے ہوئے ہو تم کیا راز ہے جو مجھ سے چھپائے ہوئے ہو تم دل نے تمہارے حسن کو بخشی ہیں رفعتیں دل کو مگر نظر سے گرائے ہوئے ہو تم یہ جو نیاز عشق کا احساس ہے تمہیں شاید کسی کے ناز اٹھائے ہوئے ہو تم یا مہربانیوں کے ہی قابل نہیں ہوں میں یا واقعی کسی کے سکھائے ہوئے ہو تم اب امتیاز پردہ و جلوہ نہیں مجھے چہرے سے کیوں نقاب اٹھائے ہوئے ہو تم اف رے ستم شکیلؔ یہ حالت تو ہو گئی اب بھی کرم کی آس لگائے ہوئے ہو تم