شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھی دل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سے کب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے حال دل پوچھنے والے تری دنیا میں کبھی دن تو ہوتا ہے مگر رات نہیں ہوتی ہے جب بھی ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیسے ہو شکیلؔ اس سے آگے تو کوئی بات نہیں ہوتی ہے

— شکیل بدیوانی

ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم

ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم جیسے کہ میرے سامنے آئے ہوئے ہو تم میری نگاہ شوق پہ چھائے ہوئے ہو تم جلووں کو خود حجاب بنائے ہوئے ہو تم کیوں اک طرف نگاہ جمائے ہوئے ہو تم کیا راز ہے جو مجھ سے چھپائے ہوئے ہو تم دل نے تمہارے حسن کو بخشی ہیں رفعتیں دل کو مگر نظر سے گرائے ہوئے ہو تم یہ جو نیاز عشق کا احساس ہے تمہیں شاید کسی کے ناز اٹھائے ہوئے ہو تم یا مہربانیوں کے ہی قابل نہیں ہوں میں یا واقعی کسی کے سکھائے ہوئے ہو تم اب امتیاز پردہ و جلوہ نہیں مجھے چہرے سے کیوں نقاب اٹھائے ہوئے ہو تم اف رے ستم شکیلؔ یہ حالت تو ہو گئی اب بھی کرم کی آس لگائے ہوئے ہو تم

— شکیل بدیوانی