سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں
یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں ہر گھڑی دل میں تیری الفت کے دھیمے دھیمے چراغ جلتے ہیں جب سے تو نے نگاہ پھیری ہے دن ہے سونا تو رات اندھیری ہے چاند بھی اب نظر نہیں آتا اب ستارے بھی کم نکلتے ہیں لٹ گئی وہ بہار کی محفل چھٹ گئی ہم سے پیار کی منزل زندگی کی اداس راہوں میں تیری یادوں کے ساتھ چلتے ہیں تجھ کو پا کر ہمیں بہار ملی تجھ سے چھٹ کر مگر یہ بات کھلی باغباں ہی چمن کے پھولوں کو اپنے پیروں سے خود مسلتے ہیں کیا کہیں تجھ سے کیوں ہوئی دوری ہم سمجھتے ہیں اپنی مجبوری تجھ کو معلوم کیا کہ تیرے لیے دل کے غم آنسوؤں میں ڈھلتے ہیں
رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ
رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارہ کوئی دل کے کھیل دیکھے کہ محبتوں کی بازی وہ قدم قدم پہ جیتے میں قدم قدم پہ ہارا یہ ہماری بد نصیبی جو نہیں تو اور کیا ہے کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکا ہمارا پڑے جب غموں سے پالے رہے مٹ کے مٹنے والے جسے موت نے نہ پوچھا اسے زندگی نے مارا
یا وہ خواب نہ دے یا رب جو بکھر کر بکھیر دے
یا وہ خواب نہ دے یا رب جو بکھر کر بکھیر دے یا وہ معجزہ عطا کر دے جو ریزہ ریزہ سمیٹ دے یا وہ دل نہ دے جو ٹوٹ کرہم کو توڑ دے یا وفاؤں کی وہ حد بتا جو اِنکو معتبر کردے یا تو سوچ کو پرواز دے جو خیال کو تخلیق دے یا تخیل ہی سہل بنا جو تراش کو کمال دے یا تو چاہنے کی وہ چاہ نہ دے جو نہ چاہ کر بھی ملال دے یا کر کرم میرے حال پہ انھیں سونپ کر تو نواز دے یا تو آنکھ کو ہی ہنر وہ دے جو ان آنسوؤں کو قرار دے یا ان موتیوں کا مول اٹھا ۔۔۔انھیں جوہر قرار دے یا عہد کا کوئی پیمانہ دے کہ پیمان کو دوام دے اے کرشمہ ساز کوئی گر بتا جو دعائیں پُراثر کر دے