شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں ہر گھڑی دل میں تیری الفت کے دھیمے دھیمے چراغ جلتے ہیں جب سے تو نے نگاہ پھیری ہے دن ہے سونا تو رات اندھیری ہے چاند بھی اب نظر نہیں آتا اب ستارے بھی کم نکلتے ہیں لٹ گئی وہ بہار کی محفل چھٹ گئی ہم سے پیار کی منزل زندگی کی اداس راہوں میں تیری یادوں کے ساتھ چلتے ہیں تجھ کو پا کر ہمیں بہار ملی تجھ سے چھٹ کر مگر یہ بات کھلی باغباں ہی چمن کے پھولوں کو اپنے پیروں سے خود مسلتے ہیں کیا کہیں تجھ سے کیوں ہوئی دوری ہم سمجھتے ہیں اپنی مجبوری تجھ کو معلوم کیا کہ تیرے لیے دل کے غم آنسوؤں میں ڈھلتے ہیں

— شکیل بدیوانی

رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ

رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ کبھی ڈگمگائی کشتی کبھی کھو گیا کنارہ کوئی دل کے کھیل دیکھے کہ محبتوں کی بازی وہ قدم قدم پہ جیتے میں قدم قدم پہ ہارا یہ ہماری بد نصیبی جو نہیں تو اور کیا ہے کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکا ہمارا پڑے جب غموں سے پالے رہے مٹ کے مٹنے والے جسے موت نے نہ پوچھا اسے زندگی نے مارا

— شکیل بدیوانی

یا وہ خواب نہ دے یا رب جو بکھر کر بکھیر دے

یا وہ خواب نہ دے یا رب جو بکھر کر بکھیر دے یا وہ معجزہ عطا کر دے جو ریزہ ریزہ سمیٹ دے یا وہ دل نہ دے جو ٹوٹ کرہم کو توڑ دے یا وفاؤں کی وہ حد بتا جو اِنکو معتبر کردے یا تو سوچ کو پرواز دے جو خیال کو تخلیق دے یا تخیل ہی سہل بنا جو تراش کو کمال دے یا تو چاہنے کی وہ چاہ نہ دے جو نہ چاہ کر بھی ملال دے یا کر کرم میرے حال پہ انھیں سونپ کر تو نواز دے یا تو آنکھ کو ہی ہنر وہ دے جو ان آنسوؤں کو قرار دے یا ان موتیوں کا مول اٹھا ۔۔۔انھیں جوہر قرار دے یا عہد کا کوئی پیمانہ دے کہ پیمان کو دوام دے اے کرشمہ ساز کوئی گر بتا جو دعائیں پُراثر کر دے

— کریسنٹ