سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں زہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں زاہدوں کو کسی کا خوف نہیں صرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں آپ جو کچھ کہیں ہمیں منظور نیک بندے خدا سے ڈرتے ہیں دشمنوں کو ستم کا خوف نہیں دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں عزم و ہمت کے باوجود شکیلؔ عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں
تکمیل شباب چاہتا ہوں
تکمیل شباب چاہتا ہوں ہو جاؤں خراب چاہتا ہوں سر معرکۂ الم ہے کرنا تھوڑی سی شراب چاہتا ہوں اپنی ہی لطافت نظر کی اس رخ پہ نقاب چاہتا ہوں ہو خیر محبتوں کی یا رب ظالم سے جواب چاہتا ہوں ہاں اے غم عشرت گذشتہ اک فرصت خواب چاہتا ہوں اس چھیڑ پہ زندگی تصدق بے وجہ عتاب چاہتا ہوں وہ مجھ سے سوال کر رہے ہیں میں ان سے جواب چاہتا ہوں کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جن کو پابند حجاب چاہتا ہوں
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا کہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا میری عرض شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گوارا وہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا بڑی منتوں سے آ کر وہ مجھے منا رہے ہیں میں بچا رہا ہوں دامن مرا انتقام دیکھا اے شکیلؔ روح پرور تری بے خودی کے نغمے مگر آج تک نہ ہم نے ترے لب پہ جام دیکھا
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے بادہ خواری سی بادہ خواری ہے حسن مصروف پردہ داری ہے جانے اب کس نظر کی باری ہے تو نے دیکھی تو ہوگی اے ناصح وہ محبت جو اختیاری ہے کم نہیں شورش نفس لیکن زندگی پر جمود طاری ہے غم الفت تو دل سے ہار چکا اب غم زندگی کی باری ہے جس چمن میں کبھی نہ آئے بہار اس چمن کی خزاں بھی پیاری ہے ہائے وہ بادہ کش کہ جس نے شکیلؔ زندگی بے پئے گزاری ہے
شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا
شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا حکم آدم کو ہے جنت سے نکل جانے کا ان سے کچھ کہہ تو رہا ہوں مگر اللہ کرے وہ بھی مفہوم نہ سمجھیں مرے افسانے کا دیکھنا دیکھنا یہ حضرت واعظ ہی نہ ہوں راستہ پوچھ رہا ہے کوئی مے خانہ کا بے تعلق ترے آگے سے گزر جاتا ہے یہ بھی اک حسن طلب ہے ترے دیوانے کا حشر تک گرمئ ہنگامۂ ہستی ہے شکیلؔ سلسلہ ختم نہ ہوگا مرے افسانے کا