شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں زہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں زاہدوں کو کسی کا خوف نہیں صرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں آپ جو کچھ کہیں ہمیں منظور نیک بندے خدا سے ڈرتے ہیں دشمنوں کو ستم کا خوف نہیں دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں عزم و ہمت کے باوجود شکیلؔ عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں

— شکیل بدیوانی

تکمیل شباب چاہتا ہوں

تکمیل شباب چاہتا ہوں ہو جاؤں خراب چاہتا ہوں سر معرکۂ الم ہے کرنا تھوڑی سی شراب چاہتا ہوں اپنی ہی لطافت نظر کی اس رخ پہ نقاب چاہتا ہوں ہو خیر محبتوں کی یا رب ظالم سے جواب چاہتا ہوں ہاں اے غم عشرت گذشتہ اک فرصت خواب چاہتا ہوں اس چھیڑ پہ زندگی تصدق بے وجہ عتاب چاہتا ہوں وہ مجھ سے سوال کر رہے ہیں میں ان سے جواب چاہتا ہوں کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جن کو پابند حجاب چاہتا ہوں

— شکیل بدیوانی

تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا

تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا کہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا میری عرض شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گوارا وہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا بڑی منتوں سے آ کر وہ مجھے منا رہے ہیں میں بچا رہا ہوں دامن مرا انتقام دیکھا اے شکیلؔ روح پرور تری بے خودی کے نغمے مگر آج تک نہ ہم نے ترے لب پہ جام دیکھا

— شکیل بدیوانی

بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے

بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے بادہ خواری سی بادہ خواری ہے حسن مصروف پردہ داری ہے جانے اب کس نظر کی باری ہے تو نے دیکھی تو ہوگی اے ناصح وہ محبت جو اختیاری ہے کم نہیں شورش نفس لیکن زندگی پر جمود طاری ہے غم الفت تو دل سے ہار چکا اب غم زندگی کی باری ہے جس چمن میں کبھی نہ آئے بہار اس چمن کی خزاں بھی پیاری ہے ہائے وہ بادہ کش کہ جس نے شکیلؔ زندگی بے پئے گزاری ہے

— شکیل بدیوانی

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا

شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا حکم آدم کو ہے جنت سے نکل جانے کا ان سے کچھ کہہ تو رہا ہوں مگر اللہ کرے وہ بھی مفہوم نہ سمجھیں مرے افسانے کا دیکھنا دیکھنا یہ حضرت واعظ ہی نہ ہوں راستہ پوچھ رہا ہے کوئی مے خانہ کا بے تعلق ترے آگے سے گزر جاتا ہے یہ بھی اک حسن طلب ہے ترے دیوانے کا حشر تک گرمئ ہنگامۂ ہستی ہے شکیلؔ سلسلہ ختم نہ ہوگا مرے افسانے کا

— شکیل بدیوانی