شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہے مری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انہیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں نہ وہ شان جبر شباب ہے نہ وہ رنگ قہر عتاب ہے دل بے قرار پہ ان دنوں ہے ستم یہی کہ ستم نہیں نہ فنا مری نہ بقا مری مجھے اے شکیلؔ نہ ڈھونڈھئے میں کسی کا حسن خیال ہوں مرا کچھ وجود و عدم نہیں

— شکیل بدیوانی

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا ان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گا سر کو کبھی قدم پہ جھکایا نہ جائے گا ان کے نقوش پا کو مٹایا نہ جائے گا بے وجہ انتظار دکھانے سے فائدہ کہہ دیجئے کہ سامنے آیا نہ جائے گا آنکھوں میں اشک قلب پریشاں نظر اداس اس طرح ان کو چھوڑ کے جایا نہ جائے گا وہ خود کہیں تو شرح محبت بیاں کروں نغمہ بغیر ساز سنایا نہ جائے گا بہتر یہی ہے ذکر محبت نہ چھیڑئیے نقشہ بگڑ گیا تو بنایا نہ جائے گا دل کی طرف شکیلؔ توجہ ضرور ہو یہ گھر اجڑ گیا تو بسایا نہ جائے گا

— شکیل بدیوانی

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں نہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر ہیں کسی کے منتظر ہم مگر اے امید مبہم کہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر مرے دل کو راس آیا نہ جمود غیر فانی ملی راہ زندگانی مجھے خار سے نکل کر مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبت کہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر ہیں شکیلؔ زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاں انہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالم غزل کر

— شکیل بدیوانی