شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

فکر کا پیش کردہ کلام

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا مجھ سے ہی میرے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا نفرت کے اسیروں سے مری سادگی دیکھو میں درد محبت کی دوا پوچھ رہا تھا بے باک نگاہوں کی طرف دیکھ کے میرا دل مجھ سے تڑپنے کا مزا پوچھ رہا تھا کیوں کر نہ کیا یاد مجھے وقت مصیبت لوگوں سے محبت کا خدا پوچھ رہا تھا اقرار محبت کا یہ انداز عجب ہے وہ کرکے خطا میری خطا پوچھ رہا تھا شاید وہ اسی بات پہ رونے لگے دلکشؔ میں جرم محبت کی سزا پوچھ رہا تھا

— مصطفی دلکش