سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری
آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری سنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخری کچھ تو آسان ہوگا عدم کا سفر ان سے کہنا تمہیں ڈھونڈھتی ہے نظر نامہ بر تو خدارا نہ اب دیر کر دے دے ان کو پیام آخری آخری توبہ کرتا ہوں کل سے پیوں گا نہیں مے کشی کے سہارے جیوں گا نہیں میری توبہ سے پہلے مگر ساقیا صرف دے ایک جام آخری آخری مجھ کو یاروں نے نہلا کے کفنا دیا دو گھڑی بھی نہ بیتی کہ دفنا دیا کون کرتا ہے غم ٹوٹتے ہی یہ دم کر دیا انتظام آخری آخری جیتے جی قدر میری کسی نے نہ کی زندگی بھی مری بے وفا ہو گئی دنیا والو مبارک یہ دنیا تمہیں کر چلے ہم سلام آخری آخری
اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں
اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں پائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیں ہر دل میں چھپا ہے تیر کوئی ہر پاؤں میں ہے زنجیر کوئی پوچھے کوئی ان سے غم کے مزے جو پیار کی باتیں کرتے ہیں الفت کے نئے دیوانوں کو کس طرح سے کوئی سمجھائے نظروں پہ لگی ہے پابندی دیدار کی باتیں کرتے ہیں بھونرے ہیں اگر مدہوش تو کیا پروانے بھی ہیں خاموش تو کیا سب پیار کے نغمے گاتے ہیں سب یار کی باتیں کرتے ہیں