شکیل بدیوانی

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

08 December 2025

18سپیکرز
191لسنرز

سپیکرز

طارق کا پیش کردہ کلام

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے ہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہے جہاں عشق میں ڈوب کر رہ گئے ہیں وہیں پھر ابھرنے کو جی چاہتا ہے وہ ہم سے خفا ہیں ہم ان سے خفا ہیں مگر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ہے مدت سے بے رنگ نقش محبت کوئی رنگ بھرنے کو جی چاہتا ہے بہ ایں خود سری وہ غرور محبت انہیں سجدہ کرنے کو جی چاہتا ہے قضا مژدۂ زندگی لے کے آئے کچھ اس طرح مرنے کو جی چاہتا ہے نظام دو عالم کی ہو خیر یارب پھر اک آہ کرنے کو جی چاہتا ہے گناہ مکرر شکیلؔ اللہ اللہ بگڑ کر سنورنے کو جی چاہتا ہے

— شکیل بدیوانی