سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے یہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھا وہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے یہ چشم ابر کا پانی یہ نخل مہر کے پات اتر رہا ہے مرا رزق آسمانوں سے جو در کھلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتے یہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی مکانوں سے اتار پھینکا بدن سے لباس تک شارقؔ مگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے

— سعید شارق

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں جی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکا کس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں اب تو ہنسی بھی ختم ہے افسردگی بھی ختم لب بستۂ ازل تجھے کتنا ہنساؤں میں اک خواب مثل اشک نکل آئے چشم سے دروازۂ گماں جو کبھی کھٹکھٹاؤں میں تو آ چکا ہے دیکھ لیا مان بھی لیا اب اور کیا کروں تجھے سر پر بٹھاؤں میں کیا فرق پڑ سکے گا اندھیرے کی شرح میں کچھ دیر روشنی سے اگر بھر بھی جاؤں میں خاموش رہ کہ پھر تری آواز سن سکوں نظروں سے دور جا کہ تجھے دیکھ پاؤں میں آئینے اس طرح مجھے تکتا ہے کس لیے پہچان بھی لیا کہ تعارف کراؤں میں شارقؔ ہر ایک شکل سے ملتی ہے کوئی شکل آخر بدن پہ کون سا چہرہ لگاؤں میں

— سعید شارق