سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے یہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھا وہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے یہ چشم ابر کا پانی یہ نخل مہر کے پات اتر رہا ہے مرا رزق آسمانوں سے جو در کھلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتے یہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی مکانوں سے اتار پھینکا بدن سے لباس تک شارقؔ مگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں جی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکا کس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں اب تو ہنسی بھی ختم ہے افسردگی بھی ختم لب بستۂ ازل تجھے کتنا ہنساؤں میں اک خواب مثل اشک نکل آئے چشم سے دروازۂ گماں جو کبھی کھٹکھٹاؤں میں تو آ چکا ہے دیکھ لیا مان بھی لیا اب اور کیا کروں تجھے سر پر بٹھاؤں میں کیا فرق پڑ سکے گا اندھیرے کی شرح میں کچھ دیر روشنی سے اگر بھر بھی جاؤں میں خاموش رہ کہ پھر تری آواز سن سکوں نظروں سے دور جا کہ تجھے دیکھ پاؤں میں آئینے اس طرح مجھے تکتا ہے کس لیے پہچان بھی لیا کہ تعارف کراؤں میں شارقؔ ہر ایک شکل سے ملتی ہے کوئی شکل آخر بدن پہ کون سا چہرہ لگاؤں میں