سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

عمران غازی کا پیش کردہ کلام

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے یہ موج روز نئی داستان گھڑتی ہے لگے رہیں گے کہاں تک سکوت کے خیمے وہ شور ہے کہ طناب صدا اکھڑتی ہے سلگ رہا ہے کسی سبز آگ میں وہ شجر جو ٹہنیوں کو ہلاؤں تو راکھ جھڑتی ہے لپکتے ہیں انہی شانوں کو ڈھونڈتے دھاگے پڑے پڑے ہی کہیں کوئی شال ادھڑتی ہے بہت گھنا ہی سہی نخل خواب کا سایہ مگر یہ دھوپ جو چاروں طرف سے پڑتی ہے یہ باغ دل ہے یہیں اک اداس شہزادی گلاب توڑتی ہے تتلیاں پکڑتی ہے

— سعید شارق