سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے
پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے کیا بھرے گا ترا خلا مجھ سے! ہاتھ اُٹھائے تھے بے دلی سے کیوں؟ لوٹتے ہی لڑی دُعا مجھ سے آہ بھرتے ہوئے لرزتا ہوں بُجھ نہ جائے کہِیں دِیا مجھ سے! آج آنے میں دیر کیوں کر دی؟ کوئی ہوتا تو پُوچھتا مجھ سے ایک مَیں تھا، جو صِرف میرا تھا اُس نے مُجھ کو بھی لے لِیا مُجھ سے
جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا
جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا چاہے مَیں ایک گُھونٹ ہی بھرتا شور تھا شیشۂ سَماعت میں کون اِس میں تِری ہنسی بھرتا! کُچھ تو کرتا یُونہی گُزرتا وَقت! زَخم دیتا کوئی! کوئی بھرتا! کیا کروں! سارے گھاؤ ایک سے تھے پہلا بھرتا تو آخِری بھرتا یُوں تو خالی نہ چھوڑتا وہ مجھے! مَئےِ تَنہائی ہی سہی، بھرتا! ہاتھ لگتا اگر پیالۂ ہِجر خالی کرتا اُسے، کبھی بھرتا دَفعتاً بُجھ گیا چراغِ طَرَب میرے سینے میں روشنی بھرتا! دَشتِ دِل پر رہی نظر کہ غزال جانے کب گُزرے، چَوکڑی بھرتا! پہلے ہی سے بھرا تھا جامِ وُجود خالی ہوتا تو کیا یُونہی بھرتا! آخِرش خُود ہی ہو گیا مِسمار اِک مَکاں کِس طرح گَلی بھرتا! مَیں بھی ایسے نہ سُوکھتا، شارقؔ میرا پانی اگر وہی بھرتا
کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!
کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو! بپھرے ہوئے عوام سے خطرہ ہے شاہ کو پہلے تھا خوف دِل میں کسی تیغِ تیز کا اور اب تہی نیام سے خطرہ ہے شاہ کو جاں کی امان پاؤں تو کُچھ کہنے دیجیے: اِس جبری احترام سے خطرہ ہے شاہ کو تکتے ہیں کیسی خشمگیں نظروں سے دورِ جام! خدّامِ تشنہ کام سے خطرہ ہے شاہ کو جس طرح آگے بڑھنے لگی ہے یہ داستان لگتا ہے اختتام سے خطرہ ہے شاہ کو دیکھو! کوئی خمیدہ کمر سر اُٹھا نہ لے! سجدے نہیں، قیام سے خطرہ ہے شاہ کو کہتا ہے چیخ چیخ کے دروازہء محل: دیوار و سقف و بام سے خطرہ ہے شاہ کو ہم تو نمک حلال ہیں اور سگ مثال ہیں کِس نطفہء حرام سے خطرہ ہے شاہ کو؟ کیا جانیے بھڑک اُٹھے کب کون سا چراغ! ہر ڈھلنے والی شام سے خطرہ ہے شاہ کو میں تو غزل سرا ہوں فقط شوقِ شعر میں کیا مجھ سے خوش کلام سے خطرہ ہے شاہ کو!