سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی

اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی رَش اتنا زِیادہ ہے، سَڑک ہی نہیں کُھلتی! یُوں بھینچ کے رکھّا ہے تِری یاد کا سِکّہ اَب کھولنا چاہوں بھی تو مُٹّھی نہیں کھُلتی کھُل جاتا ہے آنکھوں میں اَچانک کوئی اَلبم لَیکن کوئی تَصویر بھی پُوری نہیں کھُلتی کِس طرح نِکالوں مَیں نئی شام کا جوڑا! اَلماری بضِد ہے: نہیں کھُلتی! نہیں کھُلتی! کُچھ ایسے لگائی ہے گِرہ دَستِ سحر نے مُجھ سے بھی مِرے خواب کی گٹھڑی نہیں کھُلتی آنچَل سے ڈھکا رَہتا ہے مَہتاب ہمیشہ شَب کھُلتی ہے مُجھ پر مَگر اِتنی نہیں کھُلتی باہر تو نکل آؤں مَیں زندانِ الم سے کم بخت مِرے صبر کی رسّی نہیں کھُلتی رَہ رَہ کے یہ کہتا ہے مِرا قُفل: مجھے کھول! اور مَیں ہوں کہ مُجھ پر مِری چابی نہیں کھُلتی کِس طرح بَندھائی ہے تِرے لَمس نے ڈھارس! اَب زَخم تو کھُل جاتا ہے پَٹّی نہیں کھُلتی مَیں گوہَرِ یَکتا ہوں عَجَب قَید میں، شارقؔ دُنیا پہ کُھلوں کیا؟ مِری سیپی نہیں کھُلتی

— سعید شارق

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا

مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا مگر اُس نگاہ کا ذائقہ مِرے پات پات میں رہ گیا کِسی گہری نیند کی رسّیوں سے بندھا ہُوا تھا مِرا وجود مَیں چلا تو آیا سویر تک مگر آدھا رات میں رہ گیا اِسی کُنجِ تیرہ میں بیٹھ کر یُونہی گُھورتا ہوں چٹان کو وہ تری تلاش میں کیا نکلتا جو غارِ ذات میں رہ گیا! تجھے کیا خبر! کہ ہم ایک ساتھ اُسی کے ملبے میں دب چُکے وہ مکان جو کہِیں مُسترد شُدہ نقشہ جات میں رہ گیا مجھے کون جار میں رکھ گیا جہاں لمس تک کو ترستا ہوں! مَیں: نئے زمانے کا سکّہ، کیسے نوادرات میں رہ گیا! یُونہی بیٹھے بیٹھے ہم ایک رات شکار بن گئے ہجر کا مَیں کسی کی گھات میں رہ گیا، کوئی میری گھات میں رہ گیا مِری گاچنی لگی تختیاں تری روشنائی سے بھر گئیں جو قلم رکھا تھا دوات میں وہ یُونہی دوات میں رہ گیا کوئی کھود پائے یہ شہرِچشم تو منکشف ہو یہ راز بھی کہ ترا خزینہ بھی میرے خوابوں کی باقیات میں رہ گیا مَیں عجب مزاج کا شعر تھا، مِری کیفیت تھی الگ تھلگ مجھے شاہکار غزل میں ڈھلنا تھا، فردیات میں رہ گیا اُسے دُوربینِ تخیّلات سے دیکھتا ہوں مَیں رات بھر کوئی، کہکشاں سے نِکل کے بھی، مِری کائنات میں رہ گیا

— سعید شارق