سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
آدرش
امل خان
ایم سعید
ایمان
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہد
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
عمران غازی
غالب
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
زاہد کا پیش کردہ کلام
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا وہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشت کیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا ویسے میں تماشا تو تجھے لگتا ہوں اب بھی اک بار ذرا دیکھ ادھر کیوں نہیں لگتا کیوں خرچ کیے جاتا ہوں تیری بھی اداسی اب تیرا ضرر اپنا ضرر کیوں نہیں لگتا یہ ان چھوئے احساس کی ہر پور میں گردش اس طرح ہمیں زندگی بھر کیوں نہیں لگتا اچھا در تنہائی کھلا رہنے دوں یعنی دیوار سے لگ جاؤں مگر کیوں نہیں لگتا کیا ہے کہ کبھی پھولوں میں ڈھلتی نہیں کلیاں یہ غم کا شجر ہے تو ثمر کیوں نہیں لگتا کیوں روح نہیں کانپتی کچھ سوچ کے شارقؔ ڈرتا ہوں کہ اب ہجر سے ڈر کیوں نہیں لگتا