سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!

آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے! نابینا ہو گیا ہوں تری آگ تاپ کے دستک، سکوت، چیخ، صدا، شور، بازگشت کیا کیا ہیں نام اب ترے قدموں کی چاپ کے! ہوتا نہیں تعیّنِ جاگیرِ ہست و نیست ہم خاک ہو گئے یہ زمیں ماپ ماپ کے اب کاٹنے کو دوڑ رہا ہے سگِ فنا آ تو گیا ہوں وقت کی دیوار ٹاپ کے یُوں بھی دُھواں ہے تجربہ گاہِ وجود میں کرتا ہوں تجربے غم و دِل کے ملاپ کے دُنیا تھی مُنہمک كَفَن و دفن میں، اُدھر بیٹے میں سانس لینے لگے زخم باپ کے رہتا تھا دِل کو تنگیء ملبُوس کا گِلہ سِلوا دیے ہیں کپڑے اُداسی کے ناپ کے

— سعید شارق

سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے

سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے کھانے لگا ہے وقت مجھے نوچ نوچ کے تِتلی نہیں ہے تُو! کہ تُجھے زِندہ چھوڑ دیں چل! چل! حقوق ہوتے نہیں کاکروچ کے! یکدم کسی کی یاد نے تھاما ہے میرا ہاتھ اب کیسے کیسے فائدے ہوتے ہیں موچ کے! جس کی بریک فیل ہے، ٹائر گھِسے پِٹے ہم سب مسافران ہیں اِک ایسی کوچ کے اِک شب جھپٹ پڑی تھی اچانک، فسردگی اب تک نشان ہیں مِرے دل پر کھروچ کے رانجھا ہو چاہے پنّوں ہو، سانجھا ہے سب کا درد پنجابی کے بھی دُکھ ہیں، جو دُکھ ہیں بلوچ کے جی چاہتا ہے بھاگتا جاؤں کسی بھی سمت کب تک قدم اُٹھائے کوئی، سوچ سوچ کے! پکّی سڑک سے دُور، کسی کچّے گھر کے پاس اِک رِکشہ خواب دیکھتا ہے کارپوچ کے

— سعید شارق