سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں صبح بھی خرچ ہوئی رات کی تیاری میں کتنی مشکل سے ملی مجھ کو کلید در چشم اور اب دیکھا تو کچھ بھی نہیں الماری میں اس کو تکنا تھا کہ آنکھوں کی تھکن ختم ہوئی آخرش نیند مکمل ہوئی بیداری میں جانے کیسی مری آواز تھی کیسا میں تھا بھولتا جاتا ہوں خود کو بھی اداکاری میں وہ سیہ رنگ نفس بہتا ہے مجھ میں اب تک چشمۂ دود نہاں ہے ابھی چنگاری میں جس طرح قد سے بڑے کپڑے پہن لے کوئی ایسا لگتا ہوں میں اب حالت سرشاری میں
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے میں نے بھی کتنے دکھ در و دیوار کو دئے چہروں کی بھیڑ کاٹتی گزری مری نگاہ اور آتے آتے اس کے خد و خال کھو دئے پھر بھی میں تیری یاد نہ کر پایا زیب تن ہر چند اس قبا کے سبھی داغ دھو دئے ٹوٹا پڑا تھا نیند کا دھاگا مری طرح سو میں نے اس میں خواب کے موتی پرو دئے اپنا بھی غم منایا ترے غم کے ساتھ ساتھ اک طاق میں جلانا پڑے مجھ کو دو دئے پل بھر کو روشنی سی نظر آئی تھی کہ پھر اک شب نے میری آنکھوں میں ناخن کھبو دئے