سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں

وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں صبح بھی خرچ ہوئی رات کی تیاری میں کتنی مشکل سے ملی مجھ کو کلید در چشم اور اب دیکھا تو کچھ بھی نہیں الماری میں اس کو تکنا تھا کہ آنکھوں کی تھکن ختم ہوئی آخرش نیند مکمل ہوئی بیداری میں جانے کیسی مری آواز تھی کیسا میں تھا بھولتا جاتا ہوں خود کو بھی اداکاری میں وہ سیہ رنگ نفس بہتا ہے مجھ میں اب تک چشمۂ دود نہاں ہے ابھی چنگاری میں جس طرح قد سے بڑے کپڑے پہن لے کوئی ایسا لگتا ہوں میں اب حالت سرشاری میں

— سعید شارق

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے میں نے بھی کتنے دکھ در و دیوار کو دئے چہروں کی بھیڑ کاٹتی گزری مری نگاہ اور آتے آتے اس کے خد و خال کھو دئے پھر بھی میں تیری یاد نہ کر پایا زیب تن ہر چند اس قبا کے سبھی داغ دھو دئے ٹوٹا پڑا تھا نیند کا دھاگا مری طرح سو میں نے اس میں خواب کے موتی پرو دئے اپنا بھی غم منایا ترے غم کے ساتھ ساتھ اک طاق میں جلانا پڑے مجھ کو دو دئے پل بھر کو روشنی سی نظر آئی تھی کہ پھر اک شب نے میری آنکھوں میں ناخن کھبو دئے

— سعید شارق