سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی! اُداسی بتّیاں، تنہائی کیک لائی تھی پھر ایک روز وہی دُھوپ میرے کام آئی جو تیرے سائے سے چُھپ کر کبھی بچائی تھی سیاہی جاتی نہیں میرے ہاتھ سے اب تک کسی چراغ سے کُچھ روشنی چُرائی تھی خریدنا پڑی آنکھوں سے مہنگے داموں پر سماعتوں نے جو آواز بیچ کھائی تھی مَیں ایک شام زرِ ہجر لے کے گھر لوٹا یہ میری زندگی کی اوّلیں کمائی تھی جُھلسنا چاہتی ہے آج خود ہی وہ تصویر جسے گِلہ تھا: مجھے آگ کیوں دِکھائی تھی؟ غم اپنی اپنی درانتی سنبھالے آ پہنچے پھر آج مُجھ میں کسی فصل کی کٹائی تھی
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں مَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لَڑی کو یاد نہیں ذَرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میں مِرا ہی غَم مِری افسردگی کو یاد نہیں کھڑے ہیں مدرسہءِ ہَست میں خَجِل کب سے! نہ جانے کیسا سَبَق تھا! کِسی کو یاد نہیں خُوشی تڑپتی ہے بے طرح دِل کے صَحرا میں کہاں سے لایا ہوں اِس جَل پَری کو، یاد نہیں! سَرِشک و خواب ہیں کیا چِیز! عَکس کیا شَے ہے! کِسی کے بارے میں چَشمِ تَہی کو یاد نہیں وہ دِھیمی چاپ، وہ دَستَک، وہ دُھول، وہ آنسو مَکاں کو یاد ہے سَب کُچھ، گلی کو یاد نہیں گُھمائے جاتی ہیں بَس یُوں ہی سُوئیاں، شارِق اب اصل وَقت کِسی بھی گھَڑی کو یاد نہیں