سپیکرز
نور مائیر
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
امل خان
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
آدرش
امل خان
ایم سعید
ایمان
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہد
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
عمران غازی
غالب
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں پھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کے روند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں فاصلہ بڑھتا رہا بڑھتا رہا آخر کار میں کہیں رہ گیا اور رہ گئے وہ ہات کہیں پٹیاں باندھ کے رکھتا ہوں کہ ڈر لگتا ہے کوئی سن ہی نہ لے زخموں کے سوالات کہیں جمع ہوتا رہا ملبہ مرے اندر شارقؔ اور سیلاب نے ڈھائے تھے مکانات کہیں
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں ڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکس کتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں تیری آنکھیں ہیں نہاں میرے خد و خال کے ساتھ تیری آواز چھپی ہے مری خاموشی میں ڈھانپ سکتا تھا میں سینے کا کنواں بھی لیکن خرچ ہوتا رہا آنکھوں کی خلا پوشی میں چٹکیاں کاٹتی ہے روح بدن میں شارقؔ چیختا ہے کوئی سایہ کبھی سرگوشی میں