سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں پھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کے روند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں فاصلہ بڑھتا رہا بڑھتا رہا آخر کار میں کہیں رہ گیا اور رہ گئے وہ ہات کہیں پٹیاں باندھ کے رکھتا ہوں کہ ڈر لگتا ہے کوئی سن ہی نہ لے زخموں کے سوالات کہیں جمع ہوتا رہا ملبہ مرے اندر شارقؔ اور سیلاب نے ڈھائے تھے مکانات کہیں

— سعید شارق

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں

خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں ڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکس کتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں تیری آنکھیں ہیں نہاں میرے خد و خال کے ساتھ تیری آواز چھپی ہے مری خاموشی میں ڈھانپ سکتا تھا میں سینے کا کنواں بھی لیکن خرچ ہوتا رہا آنکھوں کی خلا پوشی میں چٹکیاں کاٹتی ہے روح بدن میں شارقؔ چیختا ہے کوئی سایہ کبھی سرگوشی میں

— سعید شارق