سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں غمو! ہٹ جاؤ! میں شبّیر کا غم کر رہا ہوں مرے ہر لفظ پر زنجیرِ گریہ کے نشاں ہیں عزاداری کہاں ہوتی ہے! تاہم، کر رہا ہوں زبان و لب کو سیرابی کی خواہش ہو بھی کیسے! طلب کم ہو رہی ہے سو رسٙد کم کر رہا ہوں بنا لی چشم سے دل تک عجب کاریز میں نے اور اب اک دشت کو پانی فراہم کر رہا ہوں بچھا ہے مجھ میں جو فرشِ عزا، اشکوں سے تر ہے بظاہر چُپ ہوں اور اندر سے ماتم کر رہا ہوں کبھی سر سبز بھی ہو جائے گا یہ دشت، شارق ابھی تو دل کی سُوکھی ریت کو نم کر رہا ہوں
مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!
مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا! ذہن میں مکّہ بسایا، دِل مدینہ کر دیا بادِ طیبہ نے جلا دی اِک نئی شمعِ یقیں اور سیہ پڑتے ہوئے دِل میں اُجالا کر دیا چل پڑِیں مدح و ثنائے مُصطفیٰ کی کشتیاں کیسی بارش نے مجھے صحرا سے دریا کر دیا! سخت کھاری ہو گیا تھا چشمہِ ہستی مِرا عشق کی اِک بوند نے اِس کو بھی میٹھا کر دیا دیکھتا رہتا ہوں اندھے پن میں بھی کُچھ قافلے دِید کی خواہش نے مجھ کو کیسا بینا کر دیا! ڈُھونڈ لائی میرے ٹُکڑوں کو مدینے کی ہوا اور مجھ بکھرے ہوئے کو پھر اکٹھا کر دیا