سپیکرز
آبدار خان کا پیش کردہ کلام
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے ترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میں یہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے تجھے اس لیے میں انڈیلتا نہیں دفعتاً کہیں تو چھلک ہی نہ جائے دل کے ایاغ سے کوئی بات بھولنی ہو تو کیا ہے طریق کار کبھی پوچھ میرے لیے ہی اپنے دماغ سے یہ جھگڑتی آنکھیں بگڑتی نیند الجھتے خواب وہی محویت ہی بھلی تھی ایسے فراغ سے
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں ایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حال مرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں کِس کو خبر کہ پھر یہاں کوئی بنا ہی دے مکاں دِل سے تری حویلی کا ملبہ اگر ہٹا سکوں وقت ملے اگر تجھے آ کے اُڑا بھی دے مجھے تاکہ میں راکھ ہونے کا خُود کو یقیں دِلا سکوں دِن کی چڑھائی اک طرف، رات کی کھائی اک طرف بیچ میں شام کی چٹان، کیا تِرے پاس آ سکوں! آپ ہی ایک دیو ہوں، آپ ہی شاہزادہ ہوں کاش! لگوں میں اپنے ہاتھ، کاش! تجھے بچا سکوں