سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے ترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میں یہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے تجھے اس لیے میں انڈیلتا نہیں دفعتاً کہیں تو چھلک ہی نہ جائے دل کے ایاغ سے کوئی بات بھولنی ہو تو کیا ہے طریق کار کبھی پوچھ میرے لیے ہی اپنے دماغ سے یہ جھگڑتی آنکھیں بگڑتی نیند الجھتے خواب وہی محویت ہی بھلی تھی ایسے فراغ سے

— سعید شارق

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں ایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حال مرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں کِس کو خبر کہ پھر یہاں کوئی بنا ہی دے مکاں دِل سے تری حویلی کا ملبہ اگر ہٹا سکوں وقت ملے اگر تجھے آ کے اُڑا بھی دے مجھے تاکہ میں راکھ ہونے کا خُود کو یقیں دِلا سکوں دِن کی چڑھائی اک طرف، رات کی کھائی اک طرف بیچ میں شام کی چٹان، کیا تِرے پاس آ سکوں! آپ ہی ایک دیو ہوں، آپ ہی شاہزادہ ہوں کاش! لگوں میں اپنے ہاتھ، کاش! تجھے بچا سکوں

— سعید شارق