سعید شارق

دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق

05 February 2026

23سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری

منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری زنبیلِ چشم یوں بھی تو بھرنا ہی تھی، بھری تنہائی کے سفر پہ نکلنے سے پیشتر بکسے میں اپنی اور تمھاری کمی بھری خالی کبھی نہ رہنے دیا ساغرِ وصال جی بھر گیا تو میں نے مئے تشنگی بھری کھولا اُسے تو حالتِ دل یاد آ گئی بس یوں ہی لگ رہی تھی وہ گٹھڑی بھری بھری کیوں مل سکی نہ مدرسہء ہست سے سند! ہر امتحان پاس کیا، فیس بھی بھری آساں کہاں تھا وقت کے سکّے سنبھالنا! اک عُمر میں یہ چھید بھری پوٹلی بھری یہ بھی گزشتہ شام کا بہروپ ہی نہ ہو! ورنہ سحر، اور اس قدر افسردگی بھری؟ کیسا سراب ہے مری بنجر زمین پر! اِک فصل تکتا رہتا ہوں وہ بھی ہری بھری

— سعید شارق

کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!

کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور! بَس ایک قدَم! ایک قدَم! ایک قدَم اور! اب کیسے بتاؤں! وہ سفَر کیسا سفَر تھا! رکھّا تھا سَرِ دشتِ عدَم، ایک قدَم، اور۔۔۔ ہَٹتا ہوں اگر ایک قدَم پیچھے کی جانِب بَڑھتا ہے مری سمت وہ غَم ایک قدَم اور یکساں نظَر آتے ہیں مگر کِتنے الگ ہیں! ہر خواب کا نَم ایک، ورَم ایک، قدَم اور آگے وہی صحرا تھا، وہی پیاس تھی، شارِق رکھنے کو تو رکھ سکتے تھے ہم ایک قدَم اور

— سعید شارق