سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں اُڑتا ہے برگِ دِل کسی بادِ خیال میں بھرنی تھیں شب کی ناؤ میں خوابوں کی مچھلیاں اک جل پری اُلجھ گئی پھر میرے جال میں آئے نہ کیسے جام الُٹ دینے کا خیال! نشّہ نہیں رہا ہے مئے ماہ و سال میں ڈھوتا ہوں کانِ ہست سے میں کوئلہ تو کیا! چاندی چمک رہی ہے مِرے بال بال میں! سینے میں ہولی کھیلتی رہتی ہے آرزو آنسو رنگے ہوئے ہیں لہو کے گلال میں پہنا ہوا ہے صبح نے تنہائی کا لباس لپٹی ہوئی ہے شام اُداسی کی شال میں بڑھنے لگی عروسِ نگہ یُوں مِری طرف سرگوشیوں کے گُل ہیں، خموشی کے تھال میں
سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے کیا درانتی ہے کہ خود فصل فنا کاٹتی ہے ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھی اب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگ سکوت جس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کو نیند جو موڑ پس خواب سرا کاٹتی ہے یوں ہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پر ان کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی شارقؔ چپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے