سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر کہ ہاتھ رکھّا کسی ڈر نے میرے شانے پر مَیں اُس کے سامنے نظریں جُھکائے بیٹھا ہوں مگر بضِد ہے وہ آئینہ ٹُوٹ جانے پر اِسے خبر نہیں اندر سے رات ہوں اب تک چراغ خُوش ہے مِری روشنی بڑھانے پر ذرا سی دیر چُھپا تھا مَیں کوہِ رفتہ میں کہ اک چٹان گِری غار کے دہانے پر پڑا ہوں شیشۂ ہستی پہ گرد کے مانند نہ جانے کیا نظر آئے مجھے ہٹانے پر! کھلونا ٹُوٹنے والا ہے کھینچا تانی میں جھگڑ پڑی ہیں مِری آنکھیں نیند آنے پر نہ جانے کب مَیں ترے باغ سے چلا جاتا! سو مطمئن ہوں بہت، اپنے پَر کٹانے پر مَیں رات دن یہی ملبہ ہٹاتا رہتا ہوں گِرے ہوئے ہیں زمانے مِرے زمانے پر
تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی
تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی سو تیشہء نگاہ سے اِک مُورتی گھڑی کَب سے مُصِر تھا کھیلتے رَہنے پہ کوئی پَل مَیں نے بھی کھیل کھیل ہی میں توڑ دی گھڑی پکڑا ہُوا ہے مُجھ کو گریباں سے، وَقت نے اِک ہَتھکڑی سے کَم تو نہیں ہے مِری گھڑی! کَیسا اَلارم ہے مِرے دل میں لَگا ہُوا! تیرا خیال آتے ہی بَجنے لَگی گھڑی رہتا ہوں مَیں گُزشتہ زمانے میں آج تک پَہنی ہُوئی ہے گَرچہ نئے دور کی گھڑی ہَر بار پانچ بجتے ہی رُکتی ہیں سوئیاں کِتنی دَفعہ خَرید چُکا ہوں نئی گھڑی! ناوقت سے ہے ربط مِرا، وقت سے نہیں! کیسا مکان! کیسا زماں! کون سی گھڑی!
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں! شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟ کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:- ’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں! مہر بہ لب ہے شاخ شاخ، سایہ اُداس اُداس ہے برگدِ خواب کے تلے، کوئی بھی کارواں نہیں دیکھتے دیکھتے اُڑی، دِل کی فضا میں اک پری جانے وہ پھر کدھر گئی! (اور، یہ داستاں نہیں) میرے جُھلسنے سے ذرا تیز تو ہو گئی یہ لَو ہوں تو مَیں رائگاں مگر، ایسا بھی رائگاں نہیں! کیسے کہوں یہاں ہے تُو! کیسے کہوں وہاں ہے تُو! کہنے کو اب کہاں ہے تُو! پھر بھی کہاں کہاں نہیں! روتے ہیں لوگ زار زار، مَلتے ہیں آنکھیں بار بار یہ تو نہیں ہے وہ زمیں! یہ تو وہ آسماں نہیں !