راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں شہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھا صلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں دھوکہ دیتی ہے یہ محراب کی کالک اکثر لوگ کردار سے کھلتے ہیں جبینوں سے نہیں ان کی قسمت جنہیں دریا سے محبت تھی بہت کوئی شکوہ مجھے غرقاب سفینوں سے نہیں مجھ سے اک پل کی بھی غفلت نہ برتنے والے رابطہ خود سے مرا کتنے مہینوں سے نہیں بادشاہا تجھے آئینہ دغا دیتا ہے تاج انصاف سے سجتا ہے نگینوں سے نہیں صرف اک قبرٍ مقرر کے علاوہ راکب کوئی لالچ مجھے پرکھوں کی زمینوں سے نہیں

— راکب مختار