راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے

گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے صبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گا دھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے آئینہ چٹخنے میں دیر کتنی لگتی ہے یوں سوال کرتے ہو گونگی بہری ماؤں سے سامنے پڑی تھی اور ہاتھ تک لگایا نئیں ہم نے اک طرف کر دی دنیا اپنے پاؤں سے جسم شہر آیا تھا جسم شہر رہتا ہے دل کو لاکھ سمجھایا دل نہ آیا گاؤں سے آپ نے دیے تھے جو زخم کافی گہرے تھے اب وہ خاصے بہتر ہیں آپ کی دعاؤں سے خالی کا سے مت پھینکو، آؤ اب کے گلیوں میں دل روانہ کرتے ہیں باندھ کر صداؤں سے

— راکب مختار