راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر جھپٹ پڑا حلال زادہ خوبرو حرام پر یہ کس کے پاس میکدوں کا انتظام آ گیا شراب رند مانگنے لگے خدا کے نام پر ادھر طوائفوں میں کھو گیا ہے شاہ سلطنت ادھر مری پڑی ہیں شاہ زادیاں غلام پر تمام دوست پنسلوں سے لیس ہو کے آئے تھے سبھی نے حاشیہ لگا دیا ہے میرے نام پر یہ سوچ کر کہ گھر کے پنچھیوں کو کیا جواب دوں نہیں گیا شکاریوں کی دعوت طعام پر ہم اس کی آنکھیں چومنے کے جرم میں سزا ہوئے جو آنکھ رکھ کے بیٹھا ہے ہمارے صبح و شام پر ٹپک رہی ہے روشنی حسین خدوخال سے وہ رات اوڑھ کے نکل رہی ہے اپنے کام پر وہ داد تک وصول کر سکا نہ اپنے کرب کی کہانی کار مر گیا پہنچ کے اختتام پر

— راکب مختار