راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے

اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے شام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھے انشا جی سر پیٹ رہے تھے مایا ہے سب مایا ہے سورج جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا اندھی لڑکی کو ہم نے شب کا ماتھا چوم کے پہلا دیپ جلایا ہے ایک خدا کو ماننے والے اک رستے پہ چلے ورنہ تیرے گھر تک دوراہا بھی چوراہا بھی آیا ہے اس کے خوف اور غربت کا اندازہ کیسے ہو راکب جس نے آخری تیلی سے آدھا سگریٹ سلگایا ہے

— راکب مختار