سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
جاسمین
حماد ابراہیم
راشد نور
سید جینٹلمین
شہزاد
علی نقوی
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
نایاب
وقارالحسن
یادرفتگان
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے شام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھے انشا جی سر پیٹ رہے تھے مایا ہے سب مایا ہے سورج جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا اندھی لڑکی کو ہم نے شب کا ماتھا چوم کے پہلا دیپ جلایا ہے ایک خدا کو ماننے والے اک رستے پہ چلے ورنہ تیرے گھر تک دوراہا بھی چوراہا بھی آیا ہے اس کے خوف اور غربت کا اندازہ کیسے ہو راکب جس نے آخری تیلی سے آدھا سگریٹ سلگایا ہے