راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے

دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِق وہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے اے بادِ سِتم خیز ، تیری خیر کہ تُو نے پنچھی وہ اُڑائے ، جو اُڑنے کے نہیں تھے تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا چھوڑو، یہ مرے زخم ہی بَھرنے کے نہیں تھے اے زیست اِدھر دیکھ ، کہ ہم نے تری خاطِر وہ دِن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اُٹھایا آنسُو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے اے گردشِ ایام ہمیں رَنج بہت ہے کچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے نہیں تھے

— راکب مختار

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں وقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیں نوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں کچھ فقیروں میں بھی ہیں شاہی عناصر موجود اور کچھ شاہ فقیروں کی طرح لگتے ہیں ہجر جب مسند_تشہیر پہ آتا ہے تو لوگ چلتی پھرتی ہوئ قبروں کی طرح لگتے ہیں تجھ سے وابستہ ہر اک شخص مجھے پیارا ہے یہ وہ کانٹے ہیں جو پھولوں کی طرح لگتے ہیں ترک کرنے کا جو سوچوں بھی تو ڈر جاتا ہوں یار تو فرض نمازوں کی طرح لگتے ہیں ایک بے جسم کی قامت کا خیال آتے ہی سارے اونچے مجھے بونوں کی طرح لگتے ہیں یہ ہے سادات کی بستی کہ جہاں سارے مکاں عصر ڈھلتی ہے تو خیموں کی طرح لگتے ہیں صرف ہم راندہء درگاہ نہیں ہیں راکب آپ بھی اجڑے مزاروں کی طرح لگتے ہیں

— راکب مختار