راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی

ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی جب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھا تو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی بس ایک پھول کھلا تھا عرب کے صحرا میں فضاۓ دہر کئ خوشبوؤں سے بھر گئ تھی میں اپنے رنگ میں ثروت کو گنگنا رہا تھا اور عین وقت پہ اک ریل بھی گزر گئ تھی غم_معاش نے تقسیم کر دیا شاعر تمہاری شکل مرے ذہن سے اتر گئ تھی میں اس کی قبر پہ کچھ اشک چھوڑ آیا ہوں جو خاص لڑکی محبت کو عام کر گئ تھی

— راکب مختار