سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
جاسمین
حماد ابراہیم
راشد نور
سید جینٹلمین
شہزاد
علی نقوی
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
نایاب
وقارالحسن
یادرفتگان
نایاب کا پیش کردہ کلام
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو ہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوں دشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو موت سے قبل یہ احساس سکوں دے گا مجھے تیرا دیکھا ہوا میں ہوں میرا دیکھا ہوا تو ہاتھ در ہاتھ کئی ہاتھ جھٹکتا ہوا میں لوگ در لوگ بھرے شہر سے ملتا ہوا تو پتیاں پھول کی مٹی سے اٹھائیں تو مجھے یاد آیا مری آغوش میں بکھرا ہوا تو آنکھ کھلتے ہی مرے ہاتھ سے چھن جاتا ہے حالت_نیند میں اک خواب سے مانگا ہوا تو اس قدر اونچی ہے سینے کے مدینے کی فصیل جس سے ٹکرا کے پلٹ آئے گا بھاگا ہوا تو