راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو ہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوں دشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو موت سے قبل یہ احساس سکوں دے گا مجھے تیرا دیکھا ہوا میں ہوں میرا دیکھا ہوا تو ہاتھ در ہاتھ کئی ہاتھ جھٹکتا ہوا میں لوگ در لوگ بھرے شہر سے ملتا ہوا تو پتیاں پھول کی مٹی سے اٹھائیں تو مجھے یاد آیا مری آغوش میں بکھرا ہوا تو آنکھ کھلتے ہی مرے ہاتھ سے چھن جاتا ہے حالت_نیند میں اک خواب سے مانگا ہوا تو اس قدر اونچی ہے سینے کے مدینے کی فصیل جس سے ٹکرا کے پلٹ آئے گا بھاگا ہوا تو

— راکب مختار