سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
جاسمین
حماد ابراہیم
راشد نور
سید جینٹلمین
شہزاد
علی نقوی
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
نایاب
وقارالحسن
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے
پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے پسِ غبار مرے شہسوار مارے گئے جزا کے طور پہ زندہ رکھا گیا مجھ کو سزا کے طور پہ آنکھوں میں تیر مارے گئے تمہارے بعد وہ تسبیح توڑ دی ہم نے تمہاری خیر ہو اپنے تو استخارے گئے غریب تر تھا ہمیں ہم سے مانگنے والا صدا کے لہجے میں ہم دیر تک پکارے گئے انہیں مری مجھے ان کی اشد ضرورت تھی جدھر جدھر میں گیا اس طرف خسارے گئے بلا سبب نہیں تڑپا زمینٍ مقتل پر مرے قریب سے قاتل مرے گزارے گئے