راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں طلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھی درود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں شدید غصے میں ست رنگی چوڑیوں کے ساتھ ہمارا دل بھی ہے ٹوٹا تری کلائی میں وہ موت کے ادب آداب سے نہیں واقف جو جھانکتا ہے پہاڑوں سے روز کھائی میں یہ اور بات کے ہم مانگتے نہیں ورنہ ہمارا حصہ ہے دنیا کی پائی پائی میں

— راکب مختار