راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

فاران وڑائچ کا پیش کردہ کلام

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے ماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکن بات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت پھینکنے والے ترے ہاتھ ترازو نکلے میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑا جیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکب سر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے

— راکب مختار