سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
امل خان
ایم سعید
پرشانت
جاسمین
حماد ابراہیم
راشد نور
سید جینٹلمین
شہزاد
علی نقوی
فاران وڑائچ
گلشن شیرازی
نایاب
وقارالحسن
یادرفتگان
فاران وڑائچ کا پیش کردہ کلام
جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے ماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکن بات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت پھینکنے والے ترے ہاتھ ترازو نکلے میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑا جیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکب سر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے