راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

راشد نور کا پیش کردہ کلام

رزق عشق فراہم باہم کیا جائے

رزق عشق فراہم باہم کیا جائے ہماری آنکھ پہ رحم و کرم کیا جائے وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پہ واجب ہے تمام عمر بچھڑنے کا غم کیا جاۓ زمیں کو عرشِ معلّی تلک رسائی مِلے فلک کو کھینچ کے مِٹّی میں ضم کِیا جائے !! وہ خواب میں بھی مرے ساتھ چل کے کہتا ہے سفر ،سفر ہے بھلے دو قدم کیا جاے۔ مریدنی کے دوپٹے کی سمت لپکا تھا جناب پیر کا بازو قلم کیا جائے

— راکب مختار