راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے

کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے دشت میں شہر بسیں ٰ شہر میں ویرانہ بنے اشک تعمیر میں شامل نہیں ورنہ معمار ان کو ترتیب میں لائے تو عزاء خانہ بنے مہنگی اشیاء کی طرف آنکھ اٹھاتے نہیں سب ہر کوئ دیکھے اسے اتنا بھی سستا نہ بنے منتٍ کوزہ گراں اب نہیں ہوتی مجھ سے جب ارادہ ہی نہیں اس کا تو اچھا؛نہ بنے میں ترے ساتھ رہوں اور نہ لگاؤں تجھے ہاتھ یعنی مٹی پہ چلوں نقش_ کف_پا نہ بنے میں نے کچھ داغ ترے ساتھ روانہ کئے ہیں تاکہ تو میرا نہیں ہے تو کسی کا نہ بنے ہاتھ خوش ہیں کہ بنائیں گے ترے نقش و نگار آگے تصویر کی مرضی ہے بنے یا نہ بنے ایسا ممکن ہی نہیں صاف ورق پر راکب تو مری پیاس لکھے ساتھ میں دریا نہ بنے

— راکب مختار