راکب مختار

حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار

21 April 2026

16سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

جاسمین کا پیش کردہ کلام

دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے

دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے ایسے شفا ہوئی کہ وہیں بیٹھے مر گئے اطراف میں تو اپنے تھے ، دشمن تھا سامنے کیوں تیر میرے جسم میں ترچھے اتر گئے وہ کچے گھر میں آج بھی رہتی ہے مطمئن شہزادے جس کی چاہ میں جاں سے گزر گئے کم ظرف لوگ آئے تھے جاگیرِ قیس میں واپس پلٹ کے دشت کی توہین کر گئے اتنا لُٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میں ہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹا اور اس کے بعد جو ہاتھ اس کے ہاتھ لگے ہاتھ کر گئے

— راکب مختار