محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا

وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا نمود نو کی بشارت کے انتظار میں تھا مری رفیق سفر تھیں حسد بھری نظریں وہ آسمان تھا اور میرے اختیار میں تھا بکھر گیا ہے تو اب دل نگار خانہ ہے غضب کا رنگ اس اک نقش اعتبار میں تھا اب آ گیا ہے تو ویرانیوں پر طنز نہ کر ترا مکاں اسی اجڑے ہوئے دیار میں تھا لکھے تھے نام مرے قتل کرنے والوں کے عجیب بات ہے میں بھی اسی شمار میں تھا مجھے تھا زعم مگر میں بکھر گیا محسنؔ وہ ریزہ ریزہ تھا اور اپنے اختیار میں تھا

— محسن بھوپالی