محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا

اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا خود سے خود کو منہا کر کے دیکھوں گا وہ شعلہ ہے یا چشمہ کچھ بھید کھلے پتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا کب بچھڑا تھا کون گھڑی تھی یاد نہیں لمحہ لمحہ یکجا کر کے دیکھوں گا وعدہ کر کے لوگ بھلا کیوں دیتے ہیں اب کے میں بھی ایسا کر کے دیکھوں گا کتنا سچا ہے وہ میری چاہت میں محسنؔ خود کو رسوا کر کے دیکھوں گا

— محسن بھوپالی

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​

ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ​ گزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ​ ​یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہے​ سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ​ ​زمانہ جتنا بکھیرے، سنوَرتا جاؤں گا​ ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ​ ​اُسے یہ ناز، بالآخر فریب کھا ہی گیا​ مجھے یہ زعم کہ ڈُوبا ہوں اعتماد کے ساتھ​ ​بڑھا گیا مرے اشعار کی دلآویزی​ تھا لُطفِ ناز بھی شامل کِسی کی داد کے ساتھ​ ​گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی محسن​ سفر میں جیسے رہے کوئی گردباد کے ساتھ​

— محسن بھوپالی