سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا خود سے خود کو منہا کر کے دیکھوں گا وہ شعلہ ہے یا چشمہ کچھ بھید کھلے پتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا کب بچھڑا تھا کون گھڑی تھی یاد نہیں لمحہ لمحہ یکجا کر کے دیکھوں گا وعدہ کر کے لوگ بھلا کیوں دیتے ہیں اب کے میں بھی ایسا کر کے دیکھوں گا کتنا سچا ہے وہ میری چاہت میں محسنؔ خود کو رسوا کر کے دیکھوں گا
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ گزار دیں گے اِسی خوشگوار یاد کے ساتھ یہ ذوق و شوق فقط لُطفِ داستاں تک ہے سفر پہ کوئی نہ جائے گا سِندباد کے ساتھ زمانہ جتنا بکھیرے، سنوَرتا جاؤں گا ازل سے میرا تعلق ہے خاک و باد کے ساتھ اُسے یہ ناز، بالآخر فریب کھا ہی گیا مجھے یہ زعم کہ ڈُوبا ہوں اعتماد کے ساتھ بڑھا گیا مرے اشعار کی دلآویزی تھا لُطفِ ناز بھی شامل کِسی کی داد کے ساتھ گزر رہی ہے کچھ اِس طرح زندگی محسن سفر میں جیسے رہے کوئی گردباد کے ساتھ