محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کی میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب جبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھا میری بھی یہ نادانی تھی اس کی بھی تھی مجبوری مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

— محسن بھوپالی