سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمر مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا کیا اسے جبر مشیت کی عنایت سمجھوں جو عمل میرا مقدر نہیں ہونے پاتا چشم پر آب سمو لیتی ہے آلام کی گرد آئنہ دل کا مکدر نہیں ہونے پاتا چادر عجز گھٹا دیتی ہے قامت میرا میں کبھی اپنے برابر نہیں ہونے پاتا فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے محسنؔ ہر سخن گو تو سخن ور نہیں ہونے پاتا
سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ
سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ وقت سے پہلے مر جاتے ہیں کتنے ایسے لوگ سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں پودے جیسے لوگ پیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ چڑھتا سورج دیکھ کے خوش ہیں کون نہیں سمجھائے تپتی دھوپ میں کمھلائیں گے غنچے جیسے لوگ شب کے راج دلارو سوچو اپنا بھی انجام شب کا کیا ہے کاٹ ہی دیں گے جیسے تیسے لوگ غم کا درماں سوچنے بیٹھے تھے جو رات گئے فکر فردا لے کر اٹھے بزم مے سے لوگ محسنؔ اور بھی نکھرے گا ان شعروں کا مفہوم اپنے آپ کو پہچانیں گے جیسے جیسے لوگ