سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ نعیم
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
تنویر دانش
حسین بلوچ
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ قرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گے شعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہی آبلہ پاؤ! نئے پھول کھلاتے جاؤ زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہے زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ بے ضمیری ہے سرافراز تو غم کیسا ہے اپنی تذلیل کو معیار بناتے جاؤ اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہے لاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نے محسنؔ ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ