محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ قرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گے شعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہی آبلہ پاؤ! نئے پھول کھلاتے جاؤ زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہے زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ بے ضمیری ہے سرافراز تو غم کیسا ہے اپنی تذلیل کو معیار بناتے جاؤ اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہے لاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نے محسنؔ ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ

— محسن بھوپالی