سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے
لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے اب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے کس طرح کے ہیں مکیں جن کی تگ و دو ہے یہی در تو باقی رہیں دیوار نہ رہنے پائے اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہے ایک ہی صورت آزار نہ رہنے پائے ذہن تا ذہن مہکتا ہی رہے زخم ہنر فصل حرف و لب اظہار نہ رہنے پائے اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے کوئی درماں کہ ہوا چیخ رہی ہے محسنؔ نخل ہستی پہ کوئی بار نہ رہنے پائے
تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
تو کبھی خود کو بے خبر تو کر اپنی جانب بھی اک نظر تو کر غلط انداز اک نگاہ سہی میری ہستی کو معتبر تو کر وقفۂ عمر ہے کہ عرصۂ حشر اس مسافت کو مختصر تو کر رہبری کا بھرم بھی رکھ لوں گا مجھ کو مانوس رہ گزر تو کر آئنہ آئنہ ترا پرتو آئنہ آئنہ گزر تو کر میں نے جس طرح زیست کاٹی ہے ایک دن ہی سہی بسر تو کر وقت کوہ گراں سہی محسنؔ آب جو کی طرح سفر تو کر