محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے اب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے کس طرح کے ہیں مکیں جن کی تگ و دو ہے یہی در تو باقی رہیں دیوار نہ رہنے پائے اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہے ایک ہی صورت آزار نہ رہنے پائے ذہن تا ذہن مہکتا ہی رہے زخم ہنر فصل حرف و لب اظہار نہ رہنے پائے اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے کوئی درماں کہ ہوا چیخ رہی ہے محسنؔ نخل ہستی پہ کوئی بار نہ رہنے پائے

— محسن بھوپالی

تو کبھی خود کو بے خبر تو کر

تو کبھی خود کو بے خبر تو کر اپنی جانب بھی اک نظر تو کر غلط انداز اک نگاہ سہی میری ہستی کو معتبر تو کر وقفۂ عمر ہے کہ عرصۂ حشر اس مسافت کو مختصر تو کر رہبری کا بھرم بھی رکھ لوں گا مجھ کو مانوس رہ گزر تو کر آئنہ آئنہ ترا پرتو آئنہ آئنہ گزر تو کر میں نے جس طرح زیست کاٹی ہے ایک دن ہی سہی بسر تو کر وقت کوہ گراں سہی محسنؔ آب جو کی طرح سفر تو کر

— محسن بھوپالی