محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے

یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے ترا خیال ہے یا دن نکلنے والا ہے یقین مانو میں کب کا بکھر گیا ہوتا تمہاری یاد نے اب تک مجھے سنبھالا ہے ہجوم جشن میں کرتا ہے غم زدوں کو تلاش مجھے جنوں نے عجب امتحاں میں ڈالا ہے کسی کا نام تو ہم لے کے شب میں سوتے ہیں کوئی تو ہے جو سحر دم جگانے والا ہے زمانہ ساز ڈریں گردش زمانہ سے ہمارا کیا ہے ہمیں حادثوں نے پالا ہے یہی بہت ہے کہ نقش قدم سے بچ جائیں سخن میں راستہ کس نے نیا نکالا ہے خدا کرے کہ اسے علم بھی نہ ہو محسنؔ وہ جس کے گرد مری چاہتوں کا ہالا ہے

— محسن بھوپالی

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن کِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کر وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسن خیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا

— محسن بھوپالی