سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے ترا خیال ہے یا دن نکلنے والا ہے یقین مانو میں کب کا بکھر گیا ہوتا تمہاری یاد نے اب تک مجھے سنبھالا ہے ہجوم جشن میں کرتا ہے غم زدوں کو تلاش مجھے جنوں نے عجب امتحاں میں ڈالا ہے کسی کا نام تو ہم لے کے شب میں سوتے ہیں کوئی تو ہے جو سحر دم جگانے والا ہے زمانہ ساز ڈریں گردش زمانہ سے ہمارا کیا ہے ہمیں حادثوں نے پالا ہے یہی بہت ہے کہ نقش قدم سے بچ جائیں سخن میں راستہ کس نے نیا نکالا ہے خدا کرے کہ اسے علم بھی نہ ہو محسنؔ وہ جس کے گرد مری چاہتوں کا ہالا ہے
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن کِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کر وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسن خیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا