محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا

بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا تم نے جلتے ہوئے دیکھا ہے نشیمن اپنا کس کڑے وقت میں موسم نے گواہی مانگی جب گریبان ہی اپنا ہے نہ دامن اپنا اپنے لٹ جانے کا الزام کسی کو کیا دوں میں ہی تھا راہنما میں ہی تھا رہزن اپنا کوئی ملتا ہے جو اس دور پر آشوب میں دوست مشورے دے کے بنا لیتے ہیں دشمن اپنا جب بھی سچ بولتے بچوں پہ نظر پڑتی ہے یاد آ جاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا یوں کیا کرتے ہیں لڑکوں کو نصیحت اکثر جیسے ہم نے نہ گزارا ہو لڑکپن اپنا رنگ محفل کے لیے ہم نہیں بدلے محسنؔ وہی انداز تخیل ہے وہی فن اپنا

— محسن بھوپالی

لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے

لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے اس نے دعوے کیے نہیں ہوتے خوب ہے خوب تر ہے خوب ترین اس طرح تجزیے نہیں ہوتے گر ندامت سے تم کو بچنا تھا فیصلے خود کیے نہیں ہوتے بات بین السطور ہوتی ہے شعر میں حاشیے نہیں ہوتے تیرگی سے نہ کیجے اندازہ کچھ گھروں میں دیے نہیں ہوتے ظرف ہے شرط اولیں محسنؔ جام سب کے لیے نہیں ہوتے

— محسن بھوپالی