سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا
بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا تم نے جلتے ہوئے دیکھا ہے نشیمن اپنا کس کڑے وقت میں موسم نے گواہی مانگی جب گریبان ہی اپنا ہے نہ دامن اپنا اپنے لٹ جانے کا الزام کسی کو کیا دوں میں ہی تھا راہنما میں ہی تھا رہزن اپنا کوئی ملتا ہے جو اس دور پر آشوب میں دوست مشورے دے کے بنا لیتے ہیں دشمن اپنا جب بھی سچ بولتے بچوں پہ نظر پڑتی ہے یاد آ جاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا یوں کیا کرتے ہیں لڑکوں کو نصیحت اکثر جیسے ہم نے نہ گزارا ہو لڑکپن اپنا رنگ محفل کے لیے ہم نہیں بدلے محسنؔ وہی انداز تخیل ہے وہی فن اپنا
لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے
لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے اس نے دعوے کیے نہیں ہوتے خوب ہے خوب تر ہے خوب ترین اس طرح تجزیے نہیں ہوتے گر ندامت سے تم کو بچنا تھا فیصلے خود کیے نہیں ہوتے بات بین السطور ہوتی ہے شعر میں حاشیے نہیں ہوتے تیرگی سے نہ کیجے اندازہ کچھ گھروں میں دیے نہیں ہوتے ظرف ہے شرط اولیں محسنؔ جام سب کے لیے نہیں ہوتے