سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو رہیں گے ہم اِسی جگہ، ہمارا حال کچھ بھی ہو جو سراپا خیر ہے ، اُسی کا امتی ہوں میں مرا جواب پیار ہے، ترا سوال کچھ بھی ہو تمام مہرے سچ کے ہیں، ہم اہلِ حق کے ہاتھ میں ہماری جیت طے رہی، کسی کی چال کچھ بھی ہو ہمارے بھائیوں کو بس غرض ہے اقتدار سے وطن کا حال کچھ بھی ہو، یہاں وبال کچھ بھی ہو یہ اندھی سوچ دے رہے ہیں نسلِ نو کو رہنما روش روش کو روند ڈالو، پائمال کچھ بھی ہو
اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے
اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے جس قدر ظلم بڑھے عزم سوا ہوتا ہے صوت و آہنگ ہی پیرایۂ اظہار نہیں بے نوائی میں بھی انداز نوا ہوتا ہے غم زدو دائرۂ غم سے نکل کر دیکھو درد سے درد کا احساس بڑا ہوتا ہے اتنے بدلے گئے آداب کہ اب محفل میں دل کی دھڑکن پہ بھی احساس سزا ہوتا ہے روش وقت سے مایوس نہ ہوں اہل نظر سانحہ قسمت ارباب وفا ہوتا ہے