محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے ہے خوئے ایازی ہی سزاوار ملامت محمود کو کیوں طعنۂ اکرام دیا جائے ضد ہے کہ انہیں مان کے سرخیل بہاراں غنچوں کی طرف سے کوئی پیغام دیا جائے ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو الزام جو دینا ہے سر عام دیا جائے بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسنؔ سرقے کو جہاں رتبۂ‌ الہام دیا جائے

— محسن بھوپالی

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا دل آئینہ ہے مگر دل کا آئنا آنکھیں وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہوگا خلا میں ڈھونڈ رہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں غم حیات نے فرصت نہ دی ٹھہرنے کی پکارتی ہی رہی ہیں مجھے سدا آنکھیں یہ اس کا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسنؔ رکا رکا سا تبسم خفا خفا آنکھیں

— محسن بھوپالی

نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے

نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے ہیں اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھائے ہوئے گزر رہے ہیں دبے پاؤں وقت کی مانند فراز دار پہ اپنی نظر جمائے ہوئے صلہ ملے نہ ملے خون دل چھڑکتے چلیں ہر ایک خار ہے دست طلب بڑھائے ہوئے وہ اب بھی سایۂ ابر رواں کو تکتے ہیں جنہیں زمانہ ہوا اپنا گھر جلائے ہوئے چھلک سکا نہ کبھی جام چشم تر محسنؔ اگرچہ عمر ہوئی ہم کو گنگنائے ہوئے

— محسن بھوپالی