سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے ہے خوئے ایازی ہی سزاوار ملامت محمود کو کیوں طعنۂ اکرام دیا جائے ضد ہے کہ انہیں مان کے سرخیل بہاراں غنچوں کی طرف سے کوئی پیغام دیا جائے ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو الزام جو دینا ہے سر عام دیا جائے بہتر ہے کہ اس بزم سے اٹھ آئیے محسنؔ سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا دل آئینہ ہے مگر دل کا آئنا آنکھیں وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہوگا خلا میں ڈھونڈ رہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں غم حیات نے فرصت نہ دی ٹھہرنے کی پکارتی ہی رہی ہیں مجھے سدا آنکھیں یہ اس کا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسنؔ رکا رکا سا تبسم خفا خفا آنکھیں
نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے
نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے ہیں اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھائے ہوئے گزر رہے ہیں دبے پاؤں وقت کی مانند فراز دار پہ اپنی نظر جمائے ہوئے صلہ ملے نہ ملے خون دل چھڑکتے چلیں ہر ایک خار ہے دست طلب بڑھائے ہوئے وہ اب بھی سایۂ ابر رواں کو تکتے ہیں جنہیں زمانہ ہوا اپنا گھر جلائے ہوئے چھلک سکا نہ کبھی جام چشم تر محسنؔ اگرچہ عمر ہوئی ہم کو گنگنائے ہوئے