سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم تمام عمر ہے اب یاد یار کا موسم وہ کیا گیا ہے کہ اب خود پہ اعتبار نہیں اسی کے دم سے تھا قول قرار کا موسم یہ کس فضا میں گزرتے ہیں روزو شب یارو نہ جبر کا ہے نہ یہ اختیار کا موسم وہ بام و در تو ہمیں آج بھی بلاتے ہیں ہمیں ہی راس نہیں کوئے یار کا موسم گلوں کے کھلنے پہ ہی منحصر نہیں محسن ملے وہ جس میں وہی ہے بہار کا موسم
ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا اہل ساحل نے تمسخرمیں اڑانا چاہا سامنا کرنے کی جرات ہی کہاں تھی تم نے ہر حقیقت کے عوض تازہ فسانہ چاہا اپنے ہی موجہ خوشبو سے رہا تو سرشار نازش گل تجھے کیا کیا نہ بنانا چاہا کیا قیامت ہے کہ تاراجئی گلشن کے عوض تو نے اک اپنے نشیمن کو سجانا چاہا میں نے ہر بار بھرم رکھا مسیحائی کا تم نے ہر بار نیا زخم لگانا چاہا اس لیے راندہ درگاہ رہے ہیں محسن ہم نے ایثار کو معیار بنانا چاہا