محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم

وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم تمام عمر ہے اب یاد یار کا موسم وہ کیا گیا ہے کہ اب خود پہ اعتبار نہیں اسی کے دم سے تھا قول قرار کا موسم یہ کس فضا میں گزرتے ہیں روزو شب یارو نہ جبر کا ہے نہ یہ اختیار کا موسم وہ بام و در تو ہمیں آج بھی بلاتے ہیں ہمیں ہی راس نہیں کوئے یار کا موسم گلوں کے کھلنے پہ ہی منحصر نہیں محسن ملے وہ جس میں وہی ہے بہار کا موسم

— محسن بھوپالی

ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا

ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا اہل ساحل نے تمسخرمیں اڑانا چاہا سامنا کرنے کی جرات ہی کہاں تھی تم نے ہر حقیقت کے عوض تازہ فسانہ چاہا اپنے ہی موجہ خوشبو سے رہا تو سرشار نازش گل تجھے کیا کیا نہ بنانا چاہا کیا قیامت ہے کہ تاراجئی گلشن کے عوض تو نے اک اپنے نشیمن کو سجانا چاہا میں نے ہر بار بھرم رکھا مسیحائی کا تم نے ہر بار نیا زخم لگانا چاہا اس لیے راندہ درگاہ رہے ہیں محسن ہم نے ایثار کو معیار بنانا چاہا

— محسن بھوپالی