محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے

المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچاؤ نا خدا خطرے میں ہے خون دل دینا ہی ہوگا اے اسیران چمن بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے یا شوخی طرز بیاں راہبر خود کہہ رہا ہے قافلہ خطرے میں ہے چاک دامانوں پہ محسن انگلیاں اٹھتی رہی تھیں آج لیکن کج کلا ہوں کی قبا خطرے میں ہے

— محسن بھوپالی

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا چاہے جانے کے سبھی عیب و ہنر رکھتا تھا لا تعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکن بے نیازانہ ہر اک دل میں گزر رکھتا تھا اس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سے وہ الگ اپنا اک انداز نظر رکھتا تھا بے یقینی کی فضاؤں میں بھی تھا حوصلہ مند شب پرستوں سے بھی امید سحر رکھتا تھا مشورے کرتے ہیں جو گھر کو سجانے کے لیے ان سے کس طرح کہوں میں بھی تو گھر رکھتا تھا اس کے ہر وار کو سہتا رہا ہنس کر محسنؔ یہ تأثر نہ دیا میں بھی سپر رکھتا تھا

— محسن بھوپالی

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے مجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا

— محسن بھوپالی

میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں

میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں

— محسن بھوپالی