سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچاؤ نا خدا خطرے میں ہے خون دل دینا ہی ہوگا اے اسیران چمن بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے یا شوخی طرز بیاں راہبر خود کہہ رہا ہے قافلہ خطرے میں ہے چاک دامانوں پہ محسن انگلیاں اٹھتی رہی تھیں آج لیکن کج کلا ہوں کی قبا خطرے میں ہے
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا چاہے جانے کے سبھی عیب و ہنر رکھتا تھا لا تعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکن بے نیازانہ ہر اک دل میں گزر رکھتا تھا اس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سے وہ الگ اپنا اک انداز نظر رکھتا تھا بے یقینی کی فضاؤں میں بھی تھا حوصلہ مند شب پرستوں سے بھی امید سحر رکھتا تھا مشورے کرتے ہیں جو گھر کو سجانے کے لیے ان سے کس طرح کہوں میں بھی تو گھر رکھتا تھا اس کے ہر وار کو سہتا رہا ہنس کر محسنؔ یہ تأثر نہ دیا میں بھی سپر رکھتا تھا
ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے مجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا
میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں
میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں