محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے

یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے جو آنے والے ہیں موسم انہیں شمار میں رکھ جو دن گزر گئے ان کو گنا نہیں کرتے نہ دیکھا جان کے اس نے کوئی سبب ہوگا اسی خیال سے ہم دل برا نہیں کرتے وہ مل گیا ہے تو کیا قصۂ فراق کہیں خوشی کے لمحوں کو یوں بے مزا نہیں کرتے نشاط قرب غم ہجر کے عوض مت مانگ دعا کے نام پہ یوں بد دعا نہیں کرتے منافقت پہ جنہیں اختیار حاصل ہے وہ عرض کرتے ہیں تجھ سے گلہ نہیں کرتے ہمارے قتل پہ محسنؔ یہ پیش و پس کیسی ہم ایسے لوگ طلب خوں بہا نہیں کرتے

— محسن بھوپالی

بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن

بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن ہیں تیرے خواب کی راتیں ترے خیال کے دن فراق جاں کا زمانہ گزارنا ہوگا فغاں سے کم تو نہ ہوں گے یہ ماہ و سال کے دن ہر اک عمل کا وہ کیا کیا جواز رکھتا ہے نہ بن پڑے گا جواب ایک بھی، سوال کے دن عروج بخت مبارک مگر یہ دھیان رہے انہی دنوں کے تعاقب میں ہیں زوال کے دن گزر رہے ہیں کچھ اس طرح روز و شب اپنے کہ جس طرح سے کٹیں شاخ بے نہال کے دن شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت گزر نہ جائیں یوں ہی عہد بے مثال کے دن وہ زندگی کو نیا موڑ دے گیا محسنؔ یہی زوال کے دن ہیں مرے کمال کے دن

— محسن بھوپالی