محسن بھوپالی

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی

09 January 2026

17سپیکرز
211لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا تیز آندھی میں تو خیمہ بھی اکھڑ جاتے ہیں شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

— محسن بھوپالی

خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے

خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے ہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہے مگر لبوں پہ نغمۂ حیاتِ شاد کام ہے رہین عارض حسین، اسیر زلفِ مشکبو! نگاہ میں لیے ہوئے گھٹی گھٹی سی جستجو بھٹک رہے ہیں وادیِ خزاں میں بہر رنگ و بو سحر کے گیت گار ہے ہیں اور وقتِ شام ہے نظر میں ماہ و کہکشاں ہیں عظمت بشر نہیں قدم بڑھا رہے ہیں اور راہ معتبر نہیں فریب خوردۂ چمن ہیں دام پر نظر نہیں خیالِ نظمِ میکدہ نہیں ہے، فکرِ جام ہے ملا وہ اختیار جس پہ بے بسی ہے خندہ زن وہ روشنی ملی کہ جس پر تیرگی ہے خندہ زن وہ زندگی ملی کہ جس پر موت بھی ہے خندہ زن بضد ہیں پھر بھی کج نظر حیات شاد کام ہے نمائش و نمود وننگ و نام پر نگاہ ہے! جمالِ یار و جوئبار و جام پر نگاہ ہے بنامِ بندگی، بتانِ بام پر نگاہ ہے شباب و شعر و شاہد و شراب سے ہی کام ہے اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے

— محسن بھوپالی