سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا تیز آندھی میں تو خیمہ بھی اکھڑ جاتے ہیں شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے
خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے ہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہے مگر لبوں پہ نغمۂ حیاتِ شاد کام ہے رہین عارض حسین، اسیر زلفِ مشکبو! نگاہ میں لیے ہوئے گھٹی گھٹی سی جستجو بھٹک رہے ہیں وادیِ خزاں میں بہر رنگ و بو سحر کے گیت گار ہے ہیں اور وقتِ شام ہے نظر میں ماہ و کہکشاں ہیں عظمت بشر نہیں قدم بڑھا رہے ہیں اور راہ معتبر نہیں فریب خوردۂ چمن ہیں دام پر نظر نہیں خیالِ نظمِ میکدہ نہیں ہے، فکرِ جام ہے ملا وہ اختیار جس پہ بے بسی ہے خندہ زن وہ روشنی ملی کہ جس پر تیرگی ہے خندہ زن وہ زندگی ملی کہ جس پر موت بھی ہے خندہ زن بضد ہیں پھر بھی کج نظر حیات شاد کام ہے نمائش و نمود وننگ و نام پر نگاہ ہے! جمالِ یار و جوئبار و جام پر نگاہ ہے بنامِ بندگی، بتانِ بام پر نگاہ ہے شباب و شعر و شاہد و شراب سے ہی کام ہے اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے